Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 100

تفصیلی وضاحت — حکمت (100) : کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔ اے اللہ! تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کو میں پہچانتا ہوں۔ اے خدا جب ان لوگوں کا خیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں) کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں۔ (100- جواب مدح)

حکمت (100) میں امام علی علیہ السلام کی ایک اہم بات کی گئی ہے جس میں انہوں نے اپنی مدح و ستائش کرنے والوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اپنی حقیقت کا ذکر کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگ آپ علیہ السلام کی تعریف کر رہے تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اے اللہ! تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کو میں پہچانتا ہوں۔" یہ الفاظ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اپنی حقیقت کا علم ہونا چاہیے اور وہ اللہ کی نظر میں اپنی حیثیت کو سمجھتا ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تعریف و توصیف انسان کی حقیقت کو نہیں بدلتی۔ امام علیہ السلام نے یہ واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کی اندرونی کیفیت اور اس کے اعمال کا علم ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں اپنے نفس کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ "اے خدا! جو ان لوگوں کا خیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں) کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں۔" اس دعا میں امام علیہ السلام کی تواضع اور اللہ کی رحمت کا طلب واضح ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے عیوب کی شناخت کرنی چاہیے اور اللہ سے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان کو اپنی خوبیوں پر فخر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کی عبادت میں تواضع اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ ایک عملی سبق ہے کہ ہمیں اپنی عبادات میں خلوص اور عاجزی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، اور اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا چاہیے۔