حکمت (106) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم حقیقت بیان کی ہے کہ جب لوگ اپنی دنیاوی زندگی کو سنوارنے کے لیے دین سے دور ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے نقصانات پیدا کر دیتا ہے جو ان کی دنیاوی فائدے سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین اور دنیا کا تعلق ایک دوسرے سے گہرا ہے۔
یہ قول اس وقت کی اہمیت رکھتا ہے جب لوگ دین کو صرف ایک ذاتی یا روحانی معاملہ سمجھتے ہیں اور اس کے عملی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ امام علی (ع) کا یہ پیغام ہے کہ دین کو ترک کرنا نہ صرف روحانی نقصان ہے بلکہ یہ دنیاوی زندگی میں بھی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیتوں اور اعمال کو جانتا ہے۔ جب ہم دین کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم دراصل اپنی دنیاوی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ دین کی بنیاد پر زندگی گزارنے سے انسان کو نہ صرف روحانی سکون ملتا ہے بلکہ دنیاوی مسائل کا سامنا کرنے کی طاقت بھی ملتی ہے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ دین کی راہ پر چلنا چاہیے، چاہے دنیاوی فائدے کی خاطر ہی کیوں نہ ہو۔ دین کی پیروی کرنے سے انسان اپنی زندگی میں سکون اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔
عملی طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دین کی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرنا ضروری ہے۔ چاہے وہ اخلاقی اصول ہوں یا معاشرتی ذمہ داریاں، دین کے مطابق زندگی گزارنے سے ہم اپنے لیے اور اپنے معاشرے کے لیے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
