حکمت (108) میں امام علی (علیہ السلام) نے انسان کے دل کی حالت کی عکاسی کی ہے اور اس کے اندر موجود مختلف جذبات و احساسات کی پیچیدگیوں کو بیان کیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسان کی فطرت اور اس کے دل کے حالات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ دل کو ایک گوشت کا لوتھڑا کہا گیا ہے، جو کہ انسان کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دل حکمت و دانائی کا خزانہ بھی ہے اور مختلف منفی خصوصیات کا حامل بھی۔
امام علی (علیہ السلام) نے اس حکمت میں انسانی دل کی مختلف حالتوں کا ذکر کیا ہے۔ امید، طمع، ناامیدی، حسرت، غصہ، خوف، غفلت، دولت، مصیبت، فقر، بھوک، اور شکم پری جیسے جذبات و حالتیں انسان کے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ تمام حالتیں انسان کے اخلاقی اور روحانی حالت کو متاثر کرتی ہیں۔ جب دل میں امید ہوتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر دیتی ہے، اور جب طمع ابھرتی ہے تو حرص اسے تباہ کر دیتی ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دل کی حالت کو سمجھنا اور اس کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔ اگر انسان اپنے دل کی حالت پر توجہ نہ دے تو وہ مختلف جذبات کی قید میں آ جاتا ہے۔ امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہر کوتاہی انسان کے لیے نقصان دہ ہے اور حد سے زیادہ چیزیں بھی اس کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس حکمت کا عملی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنے دل کی حالت کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دل کی حالت ہماری زندگی کی کیفیت کو متاثر کرتی ہے، اور ہمیں مثبت رویے اپنانے کی ضرورت ہے۔
