(۱۱۰)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور علم کا ایک نمونہ ہے، جو ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ خدا کے احکام کا نفاذ کرنے کے لیے ایک خاص قسم کی قوت ارادی اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ الفاظ اس وقت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں جب اسلامی معاشرت میں انصاف اور حق کی پاسداری کی ضرورت تھی۔ یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو شخص حق کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا کمزوری کا اظہار کرتا ہے، وہ خدا کے احکام کو صحیح طور پر نافذ نہیں کر سکتا۔
اس حکمت میں تین اہم نکات ہیں: نرمی، عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرنا، اور حرص و طمع سے بچنا۔ نرمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان حق سے پیچھے ہٹ جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی قوت اور عزم کے ساتھ حق کے راستے پر چلنا چاہیے۔ عجز و کمزوری کا اظہار کرنا، خاص طور پر جب حق کی بات ہو، انسان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی حیثیت کو کمزور کرتا ہے۔
حرص و طمع سے بچنے کی بات بھی اہم ہے، کیونکہ جب انسان دنیاوی مال و دولت کے پیچھے لگ جاتا ہے تو وہ اپنے اصولوں سے دور ہو جاتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک حقیقی رہنما کو اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حکمت کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کرنی چاہیے، اور حق کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کمزوری کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں دنیاوی چیزوں کی حرص سے بچنا چاہیے اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے۔ یہ صرف ایک رہنما کے لیے نہیں، بلکہ ہر ایک مسلمان کے لیے ایک اہم سبق ہے۔
