حکمت (122) میں امام علی علیہ السلام ایک جنازے کے پیچھے جا رہے تھے جب انہوں نے ایک شخص کی ہنسی سنی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ گویا اس دنیا میں موت صرف دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ مرنے والے مسافر ہیں جو جلد ہی واپس آئیں گے۔ یہ الفاظ انسان کی فطرت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم موت کو ایک دور کی حقیقت سمجھتے ہیں، جبکہ یہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔
یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اکثر موت کی حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور اس کے اثرات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہم مرنے والوں کی قبروں میں انہیں اتارتے ہیں، لیکن فوراً بعد ان کے ترکہ کو ہڑپ کرنے لگتے ہیں، گویا ہم ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان موت کو ایک غیر متوقع واقعہ سمجھتا ہے، حالانکہ یہ ہر ایک کے نصیب میں ہے۔
اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہم نصیحت کرنے والوں کی باتوں کو بھول جاتے ہیں، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت، اور اس بھولنے کی وجہ سے ہم ہر قسم کی آفات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ موت کی حقیقت کو یاد رکھنا چاہیے اور نصیحتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں ایک گہری روحانی سبق دیتی ہے کہ زندگی کی عارضیت کو سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔
