حکمت (125) میں امام علی (علیہ السلام) نے اسلام کی ایک ایسی جامع تعریف پیش کی ہے جو اس سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ یہ تعریف نہ صرف اسلام کی روح کو بیان کرتی ہے بلکہ اس کی عملی جہتوں کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ امام فرماتے ہیں کہ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے، یعنی اللہ کی مرضی کے سامنے جھک جانا۔ یہ تسلیم دراصل ایک یقین کا نتیجہ ہے، جو کہ تصدیق کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
تصدیق کا مطلب ہے کہ انسان اپنے دل سے اللہ کی ہدایت کو مانتا ہے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے۔ یہ اعتراف فرض کی بجا آوری کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، یعنی ایک مسلمان کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان کی بنیاد صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل ہے۔ ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں اسلام کے اصولوں کو اپنانا چاہیے اور اپنے اعمال کے ذریعے اپنی ایمان کی گواہی دینی چاہیے۔ یہ تعریف ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اسلام کی اصل روح اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے، جو کہ ہمارے یقین اور عمل کی بنیاد ہے۔
