یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی دریا دلی اور سخاوت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے دیے گئے عطیات کا عوض ملے گا، وہ عطیہ دینے میں فراخ دلی دکھاتا ہے۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو اپنے مال و دولت کو صرف اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کے لئے بھی استعمال کرنا چاہئے۔
اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں سخاوت اور عطا کی اہمیت کو سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ ان کی زندگی میں نبوت کے دور سے لے کر خلافت کے دور تک، انہوں نے ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کی اور اپنے مال کا ایک حصہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کیا۔
اس حکمت میں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ اس کے دیے گئے عطیات کا عوض اللہ کی طرف سے ملے گا۔ یہ یقین انسان کو دل کی سکون عطا کرتا ہے اور اس کی سخاوت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کا دیا ہوا مال ضائع ہو جائے گا، تو وہ دینے میں کنجوسی دکھائے گا۔
اخلاقی اور روحانی اعتبار سے یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں دریغ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد فرمائے گا۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے، خاص طور پر جب ہمیں یقین ہو کہ ہم اس کا عوض پائیں گے۔
