حکمت (145) امام علی (علیہ السلام) کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے جو روزہ اور عبادت کے حقیقی مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ روزہ رکھتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال کا کوئی حقیقی اثر نہیں ہوتا۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں صرف بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے نیت اور روحانی مقصد کا ہونا ضروری ہے۔
یہاں ایک اہم موضوع یہ ہے کہ عبادت کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ روزہ اور رات کی عبادت کا مقصد صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ روحانی ترقی اور اللہ کے قریب ہونا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف روزہ رکھتا ہے اور اس کے دل میں اللہ کی محبت نہیں ہے یا اس کی عبادت میں خلوص نہیں ہے، تو اس کا روزہ محض ایک جسمانی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔
امام علی (ع) کی اس حکمت میں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ زیرک اور دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات عقل مند افراد کو اپنی توانائیوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے آرام کرنا چاہیے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، اور بعض اوقات سکون اور آرام بھی عبادت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی عبادتوں کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی اللہ کی رضا کے لیے عمل کر رہے ہیں یا صرف ظاہری طور پر عبادت کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال کی نیت کو درست کرنا چاہیے اور ان میں روحانی پہلو کو شامل کرنا چاہیے۔
