حکمت (147): کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبرستان کی طرف لے چلے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت علی علیہ السلام نے کمیل کو علم کی اہمیت اور اس کے مختلف درجات کی وضاحت کی۔ اس حکمت میں، امام علی علیہ السلام نے علم، مال، اور انسان کی مختلف اقسام کے بارے میں بات کی ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان تین اقسام کے ہوتے ہیں: ایک عالم ربانی، دوسرا متعلم جو نجات کی راہ پر قائم رہتا ہے، اور تیسرا عام لوگ جو ہر آواز پر چل پڑتے ہیں۔ اس بیان میں امام نے علم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جو انسان کو صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔
علم کو مال سے بہتر قرار دیتے ہوئے امام نے فرمایا کہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی حفاظت کرنا پڑتا ہے۔ علم کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف کرنے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، علم انسان کو مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جاتا ہے جبکہ مال ختم ہو جاتا ہے۔
امام نے یہ بھی واضح کیا کہ علم ایک دین ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے، اور علم حاکم ہوتا ہے جبکہ مال محکوم۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے یہ بات بھی کی کہ علم کے حامل لوگ دنیا میں زندہ رہتے ہیں، حالانکہ ان کے جسم نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
آخر میں، امام علی علیہ السلام نے کمیل کو بتایا کہ زمین کبھی بھی ایسے افراد سے خالی نہیں رہتی جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتے ہیں، چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ یہ لوگ علم کے خزانہ دار ہیں اور اللہ کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کی طلب کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے، کیونکہ علم ہی انسان کو صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے اور اس کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔
