Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 157

تفصیلی وضاحت — حکمت (157) : اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جا چکا ہے۔ (157- پند و نصیحت)

حکمت (157): اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جا چکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جا چکا ہے۔

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور حکمت کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو اپنی حالت کا ادراک ہونا چاہیے۔ یہ قول اس وقت کے لوگوں کے لیے ایک اہم نصیحت ہے جب وہ اپنی زندگی میں بے عملی اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر انسان غور و فکر کرے تو اسے اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی حقیقت سمجھ میں آ جائے گی۔

اس حکمت میں بنیادی موضوع یہ ہے کہ انسان کو اپنی حالت کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر وہ دیکھتا ہے تو اس کے سامنے حقائق آ جاتے ہیں۔ اگر وہ ہدایت چاہتا ہے تو اسے ہدایت مل چکی ہے۔ یہ دراصل ایک دعوت ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں اور اپنی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔

امام علی علیہ السلام کے اس قول میں کچھ خاص الفاظ ہیں جو اس کی گہرائی کو بڑھاتے ہیں، جیسے "دکھایا جا چکا ہے" اور "سنایا جا چکا ہے"۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علم اور ہدایت ہمیشہ موجود ہیں، مگر انسان کو ان کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور اپنے اعمال کی بنیاد پر اپنی تقدیر کو سنوارنا چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر ہم کسی مشکل میں ہیں تو ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عملی طور پر، ہمیں اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے۔