حکمت (16) پیغمبر ﷺ کی حدیث کے متعلق ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعہ) بدل دو اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ حدیث اس وقت کہی گئی جب دین کے پیروکار کم تھے۔ اس موقع پر، پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی تاکہ ان کی شناخت میں کوئی ابہام نہ رہے اور وہ اپنی الگ شناخت برقرار رکھ سکیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ اب جب دین کی بنیادیں مضبوط ہو چکی ہیں اور اس کی شاخیں پھیل چکی ہیں، تو ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے کو کس طرح پیش کرے۔
اس حدیث میں بنیادی موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت اور ثقافت کی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہود سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنی انفرادیت کو برقرار رکھیں اور غیر مسلم ثقافتوں کی اندھی تقلید نہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بڑھاپے کے خضاب کا ذکر ایک روحانی اور نفسیاتی پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو اپنی عمر کے ہر مرحلے میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی شناخت کو برقرار رکھنا چاہیے اور اپنی ثقافت کی قدر کرنی چاہیے۔ بڑھاپے کی علامات کو چھپانے کے لیے خضاب کا استعمال ایک علامتی عمل ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جو بھی تبدیلیاں لائیں، وہ ہماری شناخت کی عکاسی کریں اور ہمیں اپنے اصولوں کے مطابق جینا چاہیے۔
