حکمت (163): فقیری سب سے بڑی موت ہے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی جانب سے فقر اور ناداری کی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کی اہمیت کو سمجھاتا ہے جب لوگوں کی معاشرتی اور اقتصادی حالت کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ فقر کو ایک قسم کی موت قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ناداری انسان کے روحانی اور نفسیاتی حالات پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔
امام علی (علیہ السلام) نے فقر کی حالت کو ایک بڑی مصیبت قرار دیا ہے، جو انسان کو اس کی حیثیت سے گرا دیتی ہے۔ یہ نہ صرف مادی کمزوری بلکہ روحانی کمزوری بھی پیدا کرتی ہے۔ فقر انسان کو خود اعتمادی سے محروم کرتا ہے اور اس کی زندگی کی خوشیوں کو چھین لیتا ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی روحانی اور مادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ فقر کے خلاف جدوجہد کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فقر کی حالت میں بھی انسان کو صبر اور شکر گزاری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مادی دولت کی کمی کے باوجود، انسان کی عزت اور مقام اس کی نیکیوں اور کردار سے جڑا ہوا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی روحانی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔
