Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 166

تفصیلی وضاحت — حکمت (166) : اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔ (166- حق سے دستبرداری)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی طرف سے انسان کی خودی اور حقوق کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ قول اس وقت کے معاشرتی تناظر میں بہت اہمیت رکھتا ہے جب لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے میں ہچکچاتے تھے۔ امام علی (ع) نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے حق کے حصول میں دیر کرتا ہے تو اس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کے برعکس، وہ شخص عیب دار ہے جو دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے۔

یہاں پر چند اہم موضوعات ہیں: خود اعتمادی، حقوق کی پاسداری، اور دوسروں کے حقوق کا احترام۔ امام علی (ع) کا یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنی چاہیے، لیکن ہمیں دوسروں کے حقوق کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔

اس حکمت میں ایک اہم فقرہ ہے: "دوسروں کے حق پر چھاپا مارنا"۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی دوسرے کی محنت یا حق کو چھیننا نہایت غلط ہے۔ اس طرح کا عمل انسان کو ذلیل اور بدنام کرتا ہے۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کے حصول میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اگر ہم اپنے حق کے لئے دیر کرتے ہیں، تو ہمیں اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم دوسروں کے حقوق کا احترام کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ ہمیں ایک بہتر انسان بنانے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

عملی طور پر، اس حکمت کی بنیاد پر ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کی بھی حفاظت کریں۔ اس طرح ہم ایک متوازن اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔