حکمت (168) : آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔ (168- قربِ موت)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی گہری بصیرت اور زندگی کی حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کا مرحلہ قریب ہے۔ اس حکمت میں دو اہم پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے: پہلی بات یہ کہ انسان کو اپنی رائے پر اکیلا عمل نہیں کرنا چاہیے، بلکہ دوسروں کی نصیحت اور تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں باہمی رفاقت کی مدت محدود ہے، اس لیے انسان کو اپنے تعلقات کو قدر کرنی چاہیے۔
تاریخی طور پر، یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کو حکمت کی تعلیم دی۔ یہ وقت مسلمانوں کے لیے ایک اہم دور تھا جب ان کے درمیان اختلافات اور چیلنجز بڑھ رہے تھے۔ امام علی (علیہ السلام) نے ہمیشہ باہمی مشاورت اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
اس حکمت میں موجود کلیدی جملے "آخرت کا مرحلہ قریب" اور "باہمی رفاقت کی مدت کم ہے" ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ بات ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے اور ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی رائے پر اکیلا عمل کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے اور تجربات کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ ہم سب مختلف تجربات سے گزرتے ہیں، اور ان تجربات سے سیکھنا ہمیں مزید حکمت عطا کرتا ہے۔ عملی طور پر، ہمیں اپنی زندگی میں دوسروں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے اور ان کے نظریات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
آخر میں، یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور اپنی زندگیوں میں باہمی رفاقت کو اہمیت دینی چاہیے، کیونکہ یہ رفاقت ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
