Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 172

تفصیلی وضاحت — حکمت (172) : لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔ (172- جہل و نادانی)

حکمت (172): لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور انسانی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ قول اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب لوگ نئے نظریات، خیالات یا تبدیلیوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان چیزوں سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے جن کے بارے میں وہ ناواقف ہوتا ہے۔ یہ جہالت کا ایک مظہر ہے۔

امام علی (علیہ السلام) اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ لوگ اکثر اس چیز سے دشمنی رکھتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔ یہ خوف اور عدم معلومات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی نئی فکر یا نظریہ سامنے آتا ہے، تو لوگ اس کا سامنا کرنے کے بجائے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جہالت انسان کو اندھیروں میں رکھتی ہے اور وہ صحیح فیصلے کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

اس حکمت کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علم کی روشنی میں، ہم اپنی سوچ اور عمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی جہالت کو دور کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور نئی چیزوں کو سمجھنے کے لیے خود کو کھلا رکھنا چاہیے۔ یہ نہ صرف ہماری ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی۔

عملی طور پر، اس حکمت کو اپنانے کے لیے ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی تعلیم و تربیت کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں انہیں نئے خیالات اور معلومات فراہم کرنی چاہئیں تاکہ وہ خوف کی بجائے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکیں۔