حکمت (193) میں امام علی (علیہ السلام) دلوں کی رغبت و میلان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسان کی اندرونی کیفیت اور جذبات کا اثر اس کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ امام علی (ع) کا یہ کہنا ہے کہ دلوں کی حالت یا تو آگے بڑھنے کی ہوتی ہے یا پیچھے ہٹنے کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ارادے اور خواہشات کی طاقت اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاریخی طور پر، یہ حکمت اس وقت کے لوگوں کے لیے ہے جب امام علی (ع) نے اپنی خلافت کے دوران لوگوں کی تربیت اور رہنمائی کی۔ اس دور میں، مختلف چیلنجز اور مسائل کا سامنا تھا، اور امام علی (ع) نے لوگوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انہیں صحیح راستے پر چلنے کی تلقین کی۔
یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے دل کی رغبت ضروری ہے۔ جب دل کسی کام کے لیے تیار ہو، تو انسان کی محنت اور کوششیں بارآور ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، اگر دل کو مجبور کیا جائے تو انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے اور وہ کام کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتا۔
مفہوم یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں کاموں کی منصوبہ بندی کرتے وقت دل کی حالت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ جب ہم کسی کام کو شوق سے کریں گے، تو اس میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کو بھی ان کی خواہشات کے مطابق کام کرنے کا موقع دینا چاہیے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔
