Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 198

تفصیلی وضاحت — حکمت (198) : جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج)

حکمت (198) میں امام علی (علیہ السلام) کا یہ قول خوارج کے ایک مشہور نعرے کا جواب ہے، جو یہ کہتے تھے کہ "لا حُکمَ اِلَّا لِلّٰہ" یعنی "صرف اللہ کا حکم چلتا ہے"۔ یہ جملہ بظاہر ایک صحیح اور اسلامی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن امام علی (علیہ السلام) اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس جملے کی جو تشریح کی گئی ہے، وہ غلط ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خوارج نے امام علی (علیہ السلام) کے خلاف بغاوت کی اور یہ نعرہ ان کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بن گیا۔

امام علی (علیہ السلام) کا یہ بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات صحیح بات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ دین کی باتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک عمل ہے۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صرف یہ کہنا کہ "اللہ کا حکم ہے" کافی نہیں، بلکہ اس کے معنی اور تشریح بھی اہم ہیں۔

اس حکمت میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اس بات کی وضاحت کی کہ اللہ کا حکم صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق عمل کیا جائے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دین کی حقیقی روح کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے۔

اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان اور دین کے اصولوں کو سمجھنے میں عمیق نظر رکھیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی بھی نعرہ یا قول کس طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی حقیقی معنویت کیا ہے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ دین کی باتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غلط ہے، بلکہ یہ دین کی حقیقی روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔