حکمت (207): اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو ہے، جو انسان کی نفسیات اور معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر لوگوں کو اخلاقی تربیت دینے کی کوشش کی۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو اپنی فطرت کے خلاف بھی کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ وہ بہتر انسان بن سکے۔
اس حکمت میں بنیادی موضوع یہ ہے کہ انسان کی فطری خصوصیات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہم فطرتاً بردبار نہیں ہیں تو ہمیں اس عادت کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کی عادتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں، اور اگر ہم کوشش کریں تو ہم اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
یہاں کچھ اہم الفاظ ہیں جیسے "بردبار" اور "کوشش"۔ یہ دونوں الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ صبر اور حوصلہ ایک ایسی خوبی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، "شباہت" کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کے لوگوں کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
اخلاقی و روحانی لحاظ سے، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی خامیوں کو پہچانیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک عملی نصیحت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے مستقل محنت کریں۔ اس کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے بھی کام کر سکتے ہیں۔
