Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 228

تفصیلی وضاحت — حکمت (228) : جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے اور جو اس مصیبت پر کہ جس میں مبتلا ہے شکوہ کرے تو وہ اپنے پروردگار کا شاکی ہے اور جو کسی دولت مند کے پاس پہنچ کر اس کی دولتمندی کی وجہ سے جھکے تو اس کا دو تہائی دین جاتا رہتا ہے اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرے پھر مر کر دوزخ میں داخل ہو تو ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گا، جو اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے اور جس کا دل دنیا کی محبت میں وارفتہ ہو جائے تو اس کے دل میں دنیا کی یہ تین چیزیں پیوست ہو جاتی ہیں۔ ایسا غم کہ جو اس سے جدا نہیں ہوتا اور ایسی حرص کہ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ایسی امید کہ جو بر نہیں آتی۔ (228- غم دنیا)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی گہرائیوں میں ایک اہم پیغام پیش کرتی ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کے معاشرتی اور روحانی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، جب لوگ دنیاوی مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے تھے۔ اس میں بنیادی طور پر قضا و قدر الٰہی کی قبولیت، دنیا کی محبت، اور ان کے نقصانات کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

اس حکمت میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کے غم میں مبتلا ہوتا ہے، وہ دراصل اللہ کی قضا و قدر سے ناراض ہوتا ہے۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے کہ ہمیں اپنی مصیبتوں کو اللہ کی طرف سے ایک امتحان سمجھنا چاہیے۔ اگر ہم شکوہ کرتے ہیں تو ہم اپنے رب کے ساتھ نالاں ہوتے ہیں، جو ہمیں اپنی مشکلات میں صبر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

مزید برآں، اگر کوئی شخص کسی دولت مند کے پاس جا کر اس کی دولت کی وجہ سے جھکتا ہے تو وہ اپنے دین کا بڑا حصہ کھو دیتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیاوی چیزوں کی محبت میں مبتلا ہو کر ہم اپنی روحانی حیثیت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

قرآن کی تلاوت کرنے کے باوجود اگر کوئی دوزخ میں داخل ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ علم کا ہونا کافی نہیں، بلکہ اس علم پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

آخر میں، دنیا کی محبت انسان کے دل میں تین چیزیں پیدا کرتی ہے: ایک ایسا غم جو کبھی ختم نہیں ہوتا، ایسی حرص جو پیچھا نہیں چھوڑتی، اور ایسی امیدیں جو کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی محبت میں مبتلا ہونا انسان کی روحانی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔