حکمت (232) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔" یہ حکمت انسان کے معاشرتی اور روحانی زندگی کے اہم پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ قول اس دور میں آیا جب امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو خیرات دینے اور دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دی۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب معاشرتی انصاف اور مدد کی ضرورت تھی۔
اس حکمت کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ جو شخص اپنے مال میں سے کچھ خیر و نیکی کی راہ میں خرچ کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو بہت زیادہ قرار دیتا ہے۔ یہاں "دو ہاتھوں" کا ذکر دراصل دو مختلف نعمتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک طرف انسان کی عطا کردہ نعمتیں ہیں جو کہ عجز و قصور کی حامل ہیں، جبکہ دوسری طرف اللہ کی نعمتیں ہیں جو کہ بے انتہا اور بااقتدار ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ زیادہ اہم اور عظیم ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کی نعمتیں تمام نعمتوں کا اصل منبع ہیں۔ جب انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو وہ دراصل اللہ کی نعمتوں کی طرف پلٹتا ہے۔
اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے وسائل کا کچھ حصہ دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کرنا چاہیے، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی یہ نیکی ہمیں اللہ کی طرف سے بے شمار نعمتوں کی صورت میں واپس ملے گی۔ یہ ایک روحانی اور اخلاقی درس ہے کہ ہمیں اپنے مال کا کچھ حصہ دوسروں کی بھلائی کے لیے خرچ کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہو سکیں۔
