Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 239

تفصیلی وضاحت — حکمت (239) : جو شخص سستی و کاہلی کرتا ہے وہ اپنے حقوق کو ضائع و برباد کر دیتا ہے اور جو چغل خور کی بات پر اعتماد کر تا ہے، وہ دوست کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا ہے۔ (239- تساہل و عیب جوئی)

حکمت (239) میں امام علی (علیہ السلام) نے دو اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے: سستی و کاہلی اور چغل خوری۔ یہ حکمت اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جب معاشرتی ذمہ داریوں اور ذاتی حقوق کی بات ہوتی ہے۔ سستی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے فرائض کو انجام دینے میں غفلت برتتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے حقوق کو کھو دیتا ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں ہمیشہ عمل، محنت اور انصاف کی تعلیم دی۔

اس حکمت کا دوسرا حصہ چغل خوری کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی کسی کی باتوں پر بغیر سوچے سمجھے یقین کرنا۔ چغل خور وہ شخص ہے جو دوسروں کے درمیان اختلاف پیدا کرتا ہے اور دوستی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ امام علی (علیہ السلام) نے یہ بات اس وقت کہی جب معاشرتی اتحاد کی ضرورت تھی۔

اس حکمت کے بنیادی موضوعات میں ذمہ داری، اعتماد اور دوستی شامل ہیں۔ امام علی (علیہ السلام) نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہم سست ہوں گے تو نہ صرف اپنے حقوق کھو دیں گے بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی تعلقات برباد کر دیں گے۔ چغل خور کی باتوں پر اعتماد کرنے سے ہم اپنے قریبی دوستوں کو بھی کھو سکتے ہیں۔

اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں سستی سے بچنا چاہیے اور اپنے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں چغل خوروں سے دور رہنا چاہیے اور اپنے دوستوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ انصاف اور محبت سے پیش آئیں۔