حکمت (246) : نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے، جو ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ تاریخی تناظر میں، یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب امام علی علیہ السلام نے اسلامی معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیاد رکھی۔ اس دور میں لوگ مختلف نعمتوں کی فراوانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، مگر ان نعمتوں کی قدر کرنے کی ضرورت تھی۔
اس حکمت میں بنیادی تھیم یہ ہے کہ انسان کو اپنی نعمتوں کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ جب یہ نعمتیں چلی جاتی ہیں تو ان کا واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔ "بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی" کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز ایک بار چلی جائے، وہ دوبارہ نہیں آتی۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ انسان کو شکر گزار ہونا چاہیے اور اپنے وسائل کا درست استعمال کرنا چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں جو بھی چیزیں ملی ہیں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔ یہ نعمتیں صرف مادی چیزیں نہیں ہیں بلکہ صحت، علم، اور رشتے بھی شامل ہیں۔ اگر ہم ان کی قدر نہیں کریں گے تو یہ ہماری زندگی سے نکل جائیں گی۔ عملی طور پر، ہمیں چاہیے کہ ہم ہر روز اپنے پاس موجود نعمتوں کا شکر ادا کریں اور ان کی حفاظت کریں۔
