حکمت (254) میں امام علی علیہ السلام ایک اہم پیغام دیتے ہیں کہ انسان کو اپنے مال و دولت میں خود ہی وصی بننا چاہیے۔ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کی زندگی کی تمام چیزیں عارضی ہیں اور اس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی دولت کا صحیح استعمال کرے۔ یہ حکمت اس وقت کی اہمیت رکھتی ہے جب لوگ دنیاوی مال و دولت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اپنی آخرت کو بھول جاتے ہیں۔
اس حکمت کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ انسان کو اپنی دولت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کو اپنی دولت میں خیرات اور نیکی کے کاموں کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ ایک طرح کی خود احتسابی ہے کہ انسان اپنے مال میں سے وہی کام کرے جو وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد بھی اس کے مال سے کیا جائے۔
اس حکمت میں کچھ اہم الفاظ اور فقرے ہیں جیسے "وصی" اور "خیر خیرات"۔ یہاں وصی کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنے مال کا خود خیال رکھنا چاہیے اور اس میں نیکی کے کام کر کے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ انسان کو اپنے مال کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ اس کے لئے باعث نجات بنے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں مال و دولت کے بجائے نیکیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو خیر کے کاموں میں صرف کرنا چاہیے اور اپنی دولت کو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ وہ ہماری آخرت کے لئے فائدہ مند ہو۔ عملی طور پر، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی دولت کا ایک حصہ خیرات میں دینا چاہیے اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔
