حکمت (262) میں حارث ابن حوط کا ذکر ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا اصحاب جمل گمراہ تھے؟ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلامی معاشرے میں مختلف فکری اور سیاسی اختلافات موجود تھے، خاص طور پر جنگ جمل کے بعد۔ حضرت علی علیہ السلام نے حارث کو جواب دیا کہ اس نے صرف سطحی طور پر دیکھا ہے اور حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ گہرائی میں جا کر حقائق کا تجزیہ کرنا چاہیے۔
حضرت نے فرمایا کہ حارث نے نیچے کی طرف دیکھا ہے، یعنی وہ صرف ظاہری حالات پر توجہ دے رہا ہے، مگر اس نے اوپر کی طرف نہیں دیکھا، جہاں حقیقت موجود ہے۔ یہ ایک اہم درس ہے کہ ہمیں صرف ظاہری حالات پر نہیں بلکہ باطنی حقائق پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ حق اور باطل کی پہچان کے لیے علم و بصیرت کی ضرورت ہے۔
حارث کا یہ کہنا کہ وہ سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہو جائے گا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صحیح رہنمائی کی تلاش میں ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے حق کی مدد نہیں کی اور نہ ہی باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ حق کی حمایت کرنی چاہیے اور باطل کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب ہم حق کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اپنے دل و دماغ کو کھولنا چاہیے، اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی رائے پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود تحقیق کرنی چاہیے۔ یہ ایک روحانی اور اخلاقی سبق ہے کہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ حق کی تلاش میں مستقل مزاجی سے کوشش کرے۔
