Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 273

تفصیلی وضاحت — حکمت (273) : پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے چاہے اس کی تدبیریں بہت زبردست اس کی جستجو شدید اور اس کی ترکیبیں طاقت ور ہوں اس سے زائد رزق قرار نہیں دیا جتنا کہ تقدیر الہی میں اس کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔ اور کسی بندے کے لیے اس کمزوری و بے چارگی کی وجہ سے لوح محفوظ میں اس کے مقررہ رزق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کر نے والا سود و منفعت کی راحتوں میں سب لوگوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اسے نظر انداز کرنے اوراس میں شک و شبہ کرنے والا سب لوگوں سے زیادہ زیاں کاری میں مبتلا ہے بہت سے وہ جنہیں نعمتیں ملی ہیں، نعمتوں کی بدولت کم کم عذاب کے نزدیک کئے جا رہے ہیں، اور بہت سوں کے ساتھ فقر فاقہ کے پردہ ہیں اللہ کا لطف و کرم شامل حال ہے لہٰذا اسے سننے والے شکر زیادہ اور جلد بازی کم کر اور جو تیری روزی کی حد ہے اس پر ٹھہرا رہ۔ (273- تقدیر و تدبیر)

حکمت (273) میں امام علی (علیہ السلام) ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر بندے کے لیے اس کی تقدیر میں ایک خاص رزق مقرر کر رکھا ہے۔ چاہے انسان کی تدبیریں کتنی ہی زبردست کیوں نہ ہوں، اس کا رزق اس کی قسمت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسان کو اپنی کوششوں میں لگن رکھنی چاہیے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اللہ کی تقدیر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

تاریخی طور پر، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو ان کی روزی اور تقدیر کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی، خاص طور پر ایسے حالات میں جب لوگ معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس حکمت میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمزوری یا بے بسی کسی انسان کو اس کے مقدر سے دور نہیں کر سکتی۔

امام (علیہ السلام) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو لوگ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، وہ دنیا کی راحتوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ شک و شبہ میں رہتے ہیں، وہ خود کو نقصان میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ اس حکمت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض لوگ جو نعمتوں میں ہیں، وہ ان ہی نعمتوں کی وجہ سے عذاب کے قریب ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض لوگ جو فقر میں ہیں، وہ اللہ کی رحمت کے سایے میں ہیں۔

اس حکمت کے عملی نکات میں یہ شامل ہے کہ انسان کو شکر گزار ہونا چاہیے اور جلد بازی سے بچنا چاہیے۔ جو رزق اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، اس پر قناعت کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیاوی چیزوں کی طلب میں اتنی جلدی نہ کریں کہ ہم اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کو بھول جائیں۔