Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 28

تفصیلی وضاحت — حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی گہری بصیرت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ دنیا کی فانی نوعیت اور موت کی ناگزیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم دنیا کی عیش و عشرت میں مشغول ہوتے ہیں، تو در حقیقت ہم موت کی حقیقت سے منہ موڑ رہے ہوتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسان اپنی زندگی کی حقیقتوں سے غافل ہو جاتا ہے، اور دنیا کی عارضی خوشیوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

اس حکمت میں اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا کی محبت انسان کو آخرت کی حقیقتوں سے دور کر دیتی ہے۔ جب ہم دنیا کی طرف پیٹھ کرتے ہیں، تو یہ دراصل ایک علامت ہے کہ ہم اپنی آخرت کی تیاری نہیں کر رہے۔ موت کی طرف بڑھتا ہوا اشارہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ وقت کی قید میں ہم کتنا بھی مصروف ہوں، موت کا سامنا کرنا ہماری تقدیر ہے۔

امام علی (علیہ السلام) اس حکمت میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب موت قریب ہے، تو ہمیں اپنے اعمال کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ "ملاقات میں دیر کیسی؟" کا مطلب یہ ہے کہ جب ہمیں موت کا سامنا ہے تو ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد اور اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ ایک روحانی درس ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔

اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں روزمرہ کی زندگی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی زندگی کو اس طرح گزار رہے ہیں کہ جب موت آئے تو ہم مطمئن ہوں؟ یہ ایک سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے، اور اس کا جواب ہمیں ہماری زندگی کے ہر لمحے میں نظر آنا چاہیے۔