Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 283

تفصیلی وضاحت — حکمت (283) : تمہارے جاہل دولت زیادہ پا جاتے ہیں اور عالم آئندہ کے توقعات میں مبتلا رکھے جاتے ہیں۔ (283- عالم و جاہل)

حکمت (283) میں امام علی علیہ السلام نے علم اور جہالت کے درمیان ایک اہم فرق کی نشاندہی کی ہے۔ یہ حکمت اس دور کی عکاسی کرتی ہے جب علم کی قدر و قیمت کو کم سمجھا جا رہا تھا اور جاہل افراد دولت و مال میں ترقی کر رہے تھے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ معاشرتی نظام میں جاہل افراد کی کامیابی نے علم کے طلباء کو مایوس کیا۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے واضح کیا کہ علم کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اور بعض اوقات جہالت کے حامل افراد زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں۔

اس حکمت میں دو اہم موضوعات ہیں: علم کی اہمیت اور عمل کی ضرورت۔ امام علی علیہ السلام یہ بتاتے ہیں کہ علم کا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ اس علم کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ علم کی روشنی میں آگے بڑھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

کچھ اہم جملے اس حکمت میں شامل ہیں: "تمہارے جاہل دولت زیادہ پا جاتے ہیں"۔ یہ جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرت میں بعض اوقات ظاہری کامیابیاں علم کی بجائے دیگر عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، "عالم آئندہ کے توقعات میں مبتلا رکھے جاتے ہیں" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علم رکھنے والے افراد اکثر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے وہ اپنی توقعات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مادی دنیا کی چکاچوند میں علم کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے اور لوگ عموماً فوری فوائد کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے علم پر یقین رکھنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے، چاہے راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔

عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف علم حاصل کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس علم کے ذریعے اپنی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔