Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 294

تفصیلی وضاحت — حکمت (294) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«۔ (294- مغرب و مشرق کا فاصلہ)

حکمت (294) میں امام علی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپؑ نے فرمایا: "سورج کا ایک دن کا راستہ۔" یہ حکمت ہمیں ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی زندگی کا سفر کتنا مختصر اور عارضی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگ زمین کی وسعتوں اور آسمان کی بلندیوں کے بارے میں جاننے کے لیے بے تاب تھے، اور امام علیؑ نے اس سوال کے ذریعے ایک فلسفیانہ جواب دیا۔

اس حکمت کے اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کی حقیقت کو سمجھنا۔ سورج کا ایک دن کا راستہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی زندگی کی مدت کتنی کم ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کی قدر کرنی چاہیے اور اسے صحیح معنوں میں گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

امام علیؑ کا یہ جواب ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم کس طرح دنیا کی عارضیت کو سمجھیں اور آخرت کی تیاری کریں۔ جو لوگ موت کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں، وہ دراصل اپنی آخرت کی تیاری کے لیے وقت نکال رہے ہیں، جبکہ جو لوگ زندگی کی عیش و عشرت میں گم ہیں، وہ وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔

اخلاقی اور روحانی اسباق میں ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اپنی آخرت کی فکر کریں اور اس کی تیاری کریں۔ یہ حکمت ہمیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ ہمیں دنیاوی معاملات میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنی آخرت کو بھول جائیں۔