حکمت (298) میں امام علی علیہ السلام نے لڑائی جھگڑے کے بارے میں ایک اہم اصول بیان کیا ہے۔ یہ حکمت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جب انسان تنازع میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ گنہگار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم اپنی جذباتیت اور غصے کی حالت میں لڑائی جھگڑے میں بڑھ جاتے ہیں، تو ہم اپنی اخلاقی حدود کو توڑ دیتے ہیں۔
اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام کے دور میں مختلف قبائل اور گروہوں کے درمیان جھگڑے اور تنازعات عام تھے۔ یہ دور اسلامی معاشرت کی تشکیل کا وقت تھا، اور امام علی نے ہمیشہ عدل و انصاف کی بنیاد پر معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ لڑائی جھگڑے کی شدت انسان کو گناہ کی طرف لے جاتی ہے۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ جو لوگ لڑائی جھگڑے میں کمی کرتے ہیں، ان پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات لوگ انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، لیکن انہیں دبایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشرتی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ لڑائی جھگڑنے والے افراد کے لیے اللہ کا خوف قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ جب انسان لڑائی میں مشغول ہوتا ہے، تو وہ اپنی روحانی حالت کو بھول جاتا ہے۔ اس حکمت میں یہ درس دیا گیا ہے کہ ہمیں اپنی روحانی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے لڑائی جھگڑے سے دور رہنا چاہیے۔
اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی جذباتیت پر قابو پانا چاہیے اور لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیے۔ ہمیں انصاف کے لیے کوشش کرنی چاہیے، لیکن اس کوشش میں ہمیں اپنی اخلاقیات اور روحانیت کو نہیں بھولنا چاہیے۔
