Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 3

تفصیلی وضاحت — حکمت (3) : بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اور غربت مردِ زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریبِ الوطن ہوتا ہے اور عجز و درماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیزگاری ایک بڑی سپر ہے۔ (3- عیوب و محاسن)

حکمت (3): بخل، بزدلی، غربت، عجز، صبر، بے تعلقی، اور پرہیزگاری جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت کا عکاس ہے اور انسانی کردار کی مختلف جہتوں کو بیان کرتی ہے۔ بخل کو ننگ و عار قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دولت کا جمع کرنا بغیر کسی مقصد کے نہ صرف انسان کی حیثیت کو کمزور کرتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی حیثیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

بزدلی کو نقص و عیب قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ خوف اور کمزوری انسان کی شخصیت کو متزلزل کر دیتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بہادری کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرے۔ غربت کا ذکر کرتے ہوئے امام علی (علیہ السلام) نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ مالی مشکلات ایک عقلمند انسان کی زبان کو بھی بند کر دیتی ہیں، جو کہ اس کی فکری و علمی قوت کو متاثر کرتا ہے۔

مفلس کو اپنے شہر میں رہ کر بھی غریب الوطن قرار دینا اس کی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مالی تنگی انسان کو اپنے ماحول میں بھی اجنبی بنا دیتی ہے۔ عجز و درماندگی کو مصیبت قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کی کمزوری اس کی زندگی کی خوشیوں کو چھین لیتی ہے۔

صبر کو شجاعت قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت ہی اصل بہادری ہے۔ دنیا سے بے تعلقی کو بڑی دولت سمجھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مادی چیزوں کی محبت انسان کو حقیقی سکون سے دور کر دیتی ہیں۔ آخر میں، پرہیزگاری کو ایک بڑی سپر قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ اخلاقی و روحانی قوتیں ہی انسان کی حقیقی حفاظت کرتی ہیں۔