حکمت (31) میں امام علی علیہ السلام نے کفر کے چار ستونوں کا ذکر کیا ہے: حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑالو پن، کج روی اور اختلاف۔ یہ حکمت اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جب لوگ حق کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ یہاں امام نے یہ واضح کیا ہے کہ جب انسان بے جا کوششوں میں لگ جاتا ہے، تو وہ حقیقت کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ یہ بے جا کوششیں عموماً جہالت کی بنا پر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان حق کو دیکھنے سے قاصر رہتا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس میں انسان اپنی گمراہی میں مدہوش رہتا ہے۔ جب وہ حق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی زندگی کے راستے پیچیدہ اور دشوار ہو جاتے ہیں، اور اس کے لیے بچ نکلنے کی راہ تنگ ہو جاتی ہے۔
شک کی بھی چار شاخیں ہیں: کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ امام نے واضح کیا ہے کہ جو شخص جھگڑالو بن جاتا ہے، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ جھگڑالو پن انسان کو ہمیشہ اندھیروں میں رکھتا ہے۔ اسی طرح، شک و شبہ میں رہنے والا شخص شیاطین کے پنجوں سے روند دیا جاتا ہے، جو اس کی روحانی حالت کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔
آخر میں امام علی علیہ السلام نے یہ بات بھی کی ہے کہ جو شخص دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، وہ دونوں جہانوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں حق کی تلاش میں لگن اور صبر کے ساتھ چلنا چاہیے، اور جھگڑالو پن، بے جا کوششوں اور کج روی سے بچنا چاہیے۔
