حکمت (317) میں ایک یہودی نے امام علی علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب تمہارے نبی کو دفن نہیں کیا گیا تھا تو تم لوگوں میں اختلاف کیوں شروع ہو گیا؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہم نے نبی کے بارے میں اختلاف نہیں کیا، بلکہ جانشینی کے بارے میں اختلاف ہوا۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ نبی کی وفات کے بعد قیادت کے انتخاب میں اختلافات پیدا ہوئے۔
یہاں امام علی علیہ السلام نے یہودیوں کی تاریخ کی طرف اشارہ کیا ہے، جب انہوں نے دریائے نیل سے نکلنے کے بعد اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ان کے لئے بھی ایک خدا بنا دیا جائے۔ یہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض قومیں اپنے نبی کی رہنمائی کے باوجود اپنی جہالت کو نہیں چھوڑتیں۔ امام کا یہ جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کی نوعیت کیا ہے اور یہ کہ بعض لوگ اپنے ایمان میں کمزور ہو سکتے ہیں۔
اس حکمت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ اختلافات کا آغاز کبھی کبھی قیادت کے انتخاب سے ہوتا ہے، اور یہ کہ لوگوں کی جہالت ان کے ایمان میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کے پیروکار نبی کے بارے میں نہیں بلکہ قیادت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیادت کا انتخاب ہمیشہ ایک حساس معاملہ ہوتا ہے اور اس میں عقل و فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان میں مضبوط رہنا چاہئے اور قیادت کے انتخاب میں سمجھداری سے کام لینا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اختلافات بعض اوقات ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن ہمیں ان کا حل عقل و فہم سے تلاش کرنا چاہئے۔
