Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 320

تفصیلی وضاحت — حکمت (320) : ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا۔ سمجھنے کے لیے پوچھو، الجھنے کے لیے نہ پوچھو۔ کیونکہ وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے اور وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے۔ (320- طرزِ سوال)

حکمت (320) میں امام علی علیہ السلام نے ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ "سمجھنے کے لیے پوچھو، الجھنے کے لیے نہ پوچھو۔" یہ ایک نہایت اہم نصیحت ہے جو علم کے طلب اور سیکھنے کے طریقے پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کرتے ہیں، اور امام علیہ السلام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ علم کا طلب ایک نیک عمل ہے، لیکن اس کا مقصد سمجھنا ہونا چاہیے، نہ کہ الجھنا یا بحث و تکرار کرنا۔

امام علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ "وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کا طلب ایک ایسی حالت ہے جو انسان کو علم کے قریب لے جاتی ہے، چاہے وہ علم کے اعتبار سے جاہل ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس، "وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے۔" اس جملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علم کا ہونا ضروری نہیں کہ انسان کو ہمیشہ صحیح راستے پر رکھے، اگر وہ علم کو الجھانے کے لیے استعمال کرے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کا طلب ایک عبادت ہے، اور اس میں نیت کی بہت اہمیت ہے۔ اگر ہم علم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہمیں اپنی نیت کو صحیح رکھنا چاہیے۔ ہمیں سوالات کرنے کے لیے ایک مثبت اور تعمیری رویہ اپنانا چاہیے، تاکہ ہم علم حاصل کر سکیں اور اپنی سوچ کو وسعت دے سکیں۔

اس حکمت کے ذریعے امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ علم کی دنیا میں الجھاؤ پیدا کرنا نہ صرف خود کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ علم کی روشنی میں اپنے سوالات کریں اور اپنی سوچ کو واضح کریں۔