Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 336

تفصیلی وضاحت — حکمت (336) : جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔ (336- وعدہ وفائی)

حکمت (336) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک عمیق حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس سے مانگا جائے، وہ اس وقت تک آزاد ہے جب تک وعدہ نہ کرے۔ یہ قول اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کی آزادی اور خود مختاری اس کی مرضی اور وعدوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جب کوئی شخص کسی چیز کا وعدہ کرتا ہے، تو وہ اپنی آزادی کو ایک مخصوص سمت میں محدود کر لیتا ہے۔

یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے محمد ابن ابی بکر کی شہادت کی خبر سنی۔ اس موقع پر امام نے فرمایا کہ ہم ان کی موت پر اتنے ہی غمگین ہیں جتنا کہ ہمارے دشمن خوش ہیں۔ اس بیان میں ایک گہرائی ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنے دوستوں کی قدر اور دشمنوں کی خوشیوں کی حقیقت کو سمجھا۔

یہاں پر ایک اہم سبق یہ ہے کہ وعدہ وفائی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ وعدہ کرنے کے بعد انسان کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، اور اس کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے وعدوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ ہم اپنی ذات اور دوسروں کے ساتھ انصاف کر سکیں۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے دوستوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے نقصان پر غمگین ہونا چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس موقع پر دشمنوں کی خوشی کا ذکر کر کے ہمیں یہ بتایا کہ دوستی اور دشمنی کی حقیقت کیا ہے۔

اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں وعدوں کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف ہماری شخصیت میں بہتری آئے گی بلکہ ہم اپنے معاشرتی روابط کو بھی مضبوط بنا سکیں گے۔