حکمت (343) میں امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات ہمیں انسانی فطرت اور معاشرتی حالات کی ایک عمیق بصیرت فراہم کرتی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب لوگ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ امام علی (ع) نے فرمایا ہے کہ گفتگوئیں محفوظ ہیں، یعنی کہ ہر ایک کی باتیں اور اعمال اللہ کے علم میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے الفاظ اور اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
یہ حکمت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے۔ یعنی ہماری نیک یا بد عمل کی بنیاد پر ہماری حالت کا تعین ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امام علی (ع) نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے، مگر اللہ کی رحمت سے بچنے والے لوگ ہی اس نقص سے محفوظ رہتے ہیں۔
امام (ع) نے مزید فرمایا کہ اکثر لوگ خوشنودی اور ناراضگی کے جذبات میں الجھ جاتے ہیں، جو انہیں صحیح رائے سے دور کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی عقل اور رائے متاثر ہو سکتی ہے جب وہ جذباتی ہو جائے، اور اس صورت میں وہ صحیح فیصلے نہیں کر پاتا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا چاہیے تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں۔
آخر میں، امام علی (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ ایک مضبوط عقل والا شخص ایک نظر یا ایک کلمہ سے متاثر ہو سکتا ہے، جو اس کے دل میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ علم اور بصیرت کی اہمیت ہے، اور ایک مثبت تبدیلی کے لیے ہمیں ہمیشہ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
