Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 354

تفصیلی وضاحت — حکمت (354) : حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند)

حکمت (354) میں حضرت علی علیہ السلام نے ایک شخص کی مبارکباد کا جواب دیتے ہوئے ایک اہم درس دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص نے دوسرے کو اس کے نئے پیدا ہونے والے بیٹے پر مبارکباد دی۔ حضرت نے اس مبارکباد کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ 'شہسوار مبارک ہو'، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ 'تم بخشنے والے خدا کے شکر گزار ہو'۔ یہ جواب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمیں ہر نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے جو کہ خدا کی طرف سے ہمیں عطا کی گئی ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نعمتوں کی اصل حیثیت اور ان کی قدر کو سمجھنا چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو صرف اپنے اعمال یا دوسروں کی مہربانیوں کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے، بلکہ ہمیں ان کا شکر خدا کی طرف رجوع کر کے ادا کرنا چاہیے۔

یہاں پر 'بخشی ہوئی نعمت' کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ ہر چیز جو ہمیں ملی ہے، وہ خدا کی عطا ہے اور اس کا شکر ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ حضرت نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ نعمت اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت ہمیں نصیب ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

اخلاقی اور روحانی اعتبار سے یہ حکمت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم ہمیشہ شکر گزار رہیں اور اپنی کامیابیوں کو خدا کی رحمت کے ساتھ جوڑیں۔ عملی طور پر، ہمیں اپنی زندگی میں ہر چھوٹی بڑی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں ایک مثبت اور شکر گزار زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔