حکمت (362): جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی جانب سے ایک اہم نصیحت ہے جو انسانی اخلاقیات اور معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس قول کی تاریخی پس منظر میں ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امام علی علیہ السلام کا دور ایسا تھا جب معاشرتی عدم استحکام اور ظلم و جبر کا دور دورہ تھا۔ اس دور میں لوگوں کے درمیان جھگڑے، عداوتیں اور طاقت کے استعمال کا ایک عام رویہ تھا۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے جھگڑالو رویوں سے بچنا ضروری ہے۔
اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جو شخص اپنی عزت کا خیال رکھتا ہے، اسے لڑائی جھگڑے سے دور رہنا چاہیے۔ اس میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کی عزت اس کی شخصیت کا ایک اہم حصہ ہے، اور اسے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص لڑائی جھگڑوں میں مشغول رہے گا تو اس کی عزت میں کمی آ سکتی ہے، اور وہ معاشرتی طور پر کمزور ہو جائے گا۔
امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ جھگڑالو رویے انسان کو نہ صرف ذاتی سطح پر نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ معاشرتی سطح پر بھی ایک منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو اس سے نفرت، عداوت اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور امن و سکون کی فضا ختم ہو جاتی ہے۔
اس حکمت کی عملی تشریح یہ ہے کہ ہمیں اپنی عزت کی حفاظت کے لیے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ کس طرح اپنے جذبات کو کنٹرول کریں اور دوسروں کے ساتھ دوستانہ اور احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ اس طرح نہ صرف ہم اپنی عزت کی حفاظت کریں گے بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کر سکیں گے۔
