حکمت (۳۶۴) میں امام علی (علیہ السلام) ہمیں ایک اہم نصیحت دیتے ہیں کہ ہمیں ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہیں کرنا چاہیے جو وقوع پذیر نہیں ہوں گی۔ یہ حکمت ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان کو اپنے وقت اور توانائی کو مفید چیزوں پر صرف کرنا چاہیے۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ جو چیزیں حقیقت میں موجود ہیں، وہی ہماری زندگی میں اہمیت رکھتی ہیں۔
اس حکمت کی تاریخی سیاق و سباق میں، امام علی (علیہ السلام) کی زندگی کا دور ایسا تھا جب ان کے پیروکار مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کے دور میں لوگوں میں بے یقینی اور خوف کی کیفیت تھی، خاص طور پر ان کے اہل خانہ کے بارے میں۔ امام علی (علیہ السلام) اس حکمت کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ اگر خدا کے دوست ہیں تو خدا انہیں ہلاک نہیں کرے گا، اور اگر وہ خدا کے دشمن ہیں تو ان کی فکر کرنے کا کیا فائدہ؟
اس حکمت میں کچھ اہم موضوعات شامل ہیں: خدا پر بھروسہ، بے فائدہ سوالات سے بچنا، اور اپنے آپ کو موجودہ حالات میں مرکوز رکھنا۔ امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی فکر و توجہ کو ان چیزوں پر مرکوز کرنا چاہیے جو ہمارے لیے حقیقی طور پر اہم ہیں۔
اخلاقی اور روحانی اسباق میں یہ شامل ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں بے مقصد سوالات سے بچنا چاہیے اور خدا کی حکمت پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کی حقیقی حقیقتوں پر توجہ دینی چاہیے اور غیر یقینی چیزوں کے بارے میں فکر کرنے کی بجائے اپنی توانائی کو مثبت اور مفید کاموں میں لگانا چاہیے۔
عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے سوالات سے بچنا چاہیے جو ہمیں بے مقصد پریشانیوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے بارے میں خدا کی رحمت اور حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
