حکمت (367) میں امام علی (علیہ السلام) دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی عارضیت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت اور اس کے فریب کو سمجھنا ضروری تھا۔ امام (ع) لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ دنیا کا ساز و سامان دراصل سوکھا سڑا بھوسا ہے، جو انسان کے لیے وبا کی مانند ہے۔ یہ دنیاوی چیزیں انسان کو فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں اور اس کی روحانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
یہاں امام (ع) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کو دنیا کی عیش و عشرت سے دور رہنا چاہیے اور صرف اتنا ہی حاصل کرنا چاہیے جتنا اس کی ضروریات کے لیے کافی ہو۔ یہ ایک اہم روحانی سبق ہے کہ دنیاوی دولت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے انسان کو اپنے ایمان اور روحانی حالت کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔
امام (ع) یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ دنیا کی زیب و زینت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ آخر کار اندھے ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک علامتی بیان ہے کہ دنیاوی چیزیں انسان کی بصیرت کو ختم کر دیتی ہیں اور اسے غم و اندیشوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔
حکمت کے آخر میں امام (ع) مومن کی حالت کو بیان کرتے ہیں، جو دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صرف اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے جتنی اس کی ضرورت ہو۔ یہ ایک عملی نصیحت ہے کہ انسان کو دنیاوی مال و دولت کے بارے میں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا چاہیے اور اس کی عارضیت کو سمجھنا چاہیے۔
امام علی (ع) کی یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی حقیقت کو سمجھنا اور اس کی فانی نوعیت کو تسلیم کرنا ہماری روحانی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم دنیا کی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنے ایمان اور آخرت کی تیاری پر توجہ دیں۔
