حکمت (373) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے جو کہ اجتماعی انصاف اور برائی کے خلاف جہاد کے حوالے سے ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے، خاص طور پر حجاج بن یوسف کی حکومت کے خلاف۔ اس دور میں، بہت سے لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر حق و انصاف کے لئے لڑنے نکلے، اور امام علی علیہ السلام نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم ظلم و ستم کو دیکھیں تو ہمیں دل سے اس کا انکار کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص ظلم کو دل میں برا سمجھے، تو وہ اس عذاب سے محفوظ ہے۔ یہ ایک بنیادی اخلاقی اصول ہے کہ انسان کو اپنے دل کی آواز سننی چاہیے اور برائی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ اس کے بعد، اگر کوئی شخص اپنی زبان سے برائی کی مذمت کرتا ہے، تو وہ بھی اجر کا مستحق ہے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر، اگر کوئی شخص اپنی جان کی بازی لگاتا ہے اور برائی کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، تو یہی وہ شخص ہے جو ہدایت کی راہ پر گامزن ہے۔
اس حکمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنا نہ صرف ایک فرض ہے بلکہ یہ ایک اعلیٰ مقام بھی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے لڑنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، انسان کو ہدایت کی راہ پر لے جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یقین کا نور دل میں بھرنا، انسان کو صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ برائی کے خلاف آواز بلند کرنا اور اس کے خلاف عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے دل کی آواز سننی چاہیے اور جہاں ضرورت ہو، اپنی زبان اور قوت کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ایک عملی سبق ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں انصاف اور حق کی خاطر جدوجہد کرنی چاہیے، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
