حکمت (375) میں امام علی علیہ السلام نے جہاد کے مختلف مراحل کی وضاحت کی ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے اعمال میں جہاد کرنا چاہیے، یعنی ہاتھ سے، پھر زبان سے اور آخر میں دل سے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ وہ دور تھا جب مسلمان مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے تھے، اور امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جہاد صرف جسمانی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک اندرونی عمل بھی ہے۔
اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کو اپنی کوششوں میں تسلسل رکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے ہاتھ کا جہاد یعنی عملی کام، پھر زبان کا جہاد یعنی بات چیت اور نصیحت، اور آخر میں دل کا جہاد یعنی نیت اور ارادہ۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم دل سے بھلائی کو اچھا اور برائی کو برا نہیں سمجھتے تو ہم اپنی روحانی حالت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کچھ اہم جملے جیسے "دل سے بھلائی کو اچھا اور برائی کو برا نہ سمجھنا" اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی ضمیر کی حالت کس طرح ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر ہم اپنی نیت میں خلوص نہیں رکھتے تو ہماری تمام کوششیں بےکار ہو سکتی ہیں۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے دل کی حالت پر دھیان دینا چاہیے۔ اگر ہم اپنی نیت کو درست نہیں کریں گے تو ہمارا جہاد بھی بے معنی ہو جائے گا۔ اس کے عملی پہلو یہ ہیں کہ ہمیں ہمیشہ نیکی کی طرف راغب رہنا چاہیے اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
