Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 382

تفصیلی وضاحت — حکمت (382) : جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جو جانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔ (382- سکوت)

حکمت (382) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم اصول بیان کیا ہے جو علم اور گفتار کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی معلومات کو سمجھداری سے بیان کرنا چاہیے۔ جو چیزیں ہم نہیں جانتے، ان کے بارے میں خاموش رہنا بہتر ہے۔ یہ نہ صرف ہماری اپنی عزت نفس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دوسروں کی رہنمائی میں بھی مددگار ہوتا ہے۔

یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب لوگوں کے درمیان علم کی کمی اور غلط فہمیاں عام تھیں۔ امام علی (علیہ السلام) نے اپنے دور میں لوگوں کو علم کی اہمیت اور اس کی صحیح استعمال کی ترغیب دی۔ انہوں نے یہ بات واضح کی کہ قیامت کے دن، اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور علم کے بارے میں سوال کرے گا، اس لیے ہمیں اپنی باتوں میں احتیاط برتنی چاہیے۔

اس حکمت میں 'جو نہیں جانتے اسے نہ کہو' کا پیغام ہے کہ علم کی کمی کی صورت میں خاموشی بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ہی 'جو جانتے ہو، وہ بھی سب کا سب نہ کہو' کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی معلومات کو معقول اور مناسب طریقے سے پیش کرنا چاہیے۔ یہ ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہر بات کا کہنا ضروری نہیں، اور کبھی کبھی خاموشی زیادہ معنی رکھتی ہے۔

اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں علم کی عظمت اور اس کی ذمہ داری کی یاد دلاتی ہے۔ ہمیں اپنے علم کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اور دوسروں کی رہنمائی کرتے وقت احتیاط برتنا چاہیے۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی گفتگو میں توازن رکھنا چاہیے، اور جو چیزیں ہمیں معلوم نہیں، ان کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے۔