حکمت (393) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا کی طلب کے بارے میں ایک اہم نصیحت کی ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں جو کچھ بھی ملے، اسے قبول کرنا چاہیے اور ان چیزوں سے دور رہنا چاہیے جو ہمیں اللہ کی راہ سے ہٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت اس وقت کی ہے جب لوگ دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور آخرت کی حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔
اس حکمت کا بنیادی موضوع دنیا کی فانی چیزوں کی عارضیت اور ان کی طلب میں اعتدال ہے۔ امام علی علیہ السلام ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز اتنی اہم نہیں کہ ہم اپنی آخرت کو اس کی خاطر قربان کریں۔ ہمیں دنیا میں جو بھی چیز ملی ہے، اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی طلب میں اعتدال رکھنا چاہیے۔
امام علیہ السلام کا یہ کہنا کہ "اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو" ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم دنیا کی طلب میں ملوث ہیں تو ہمیں اس میں اعتدال رکھنا چاہیے۔ نہ تو دنیا کے پیچھے اتنا بھاگنا چاہیے کہ ہم اپنی آخرت کو بھول جائیں اور نہ ہی اتنا کنارہ کش ہو جانا چاہیے کہ دنیا کی ضروریات بھی پوری نہ کر سکیں۔
یہ حکمت ہمیں ایک عملی سبق بھی دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ دنیا کی چیزوں کی طلب میں ہمیں اپنی روحانی حالت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اس طرح ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
