حکمت (414) میں امام علی علیہ السلام نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم بزرگوں کی طرح صبر کرو گے تو یہ بہتر ہے، ورنہ تم ایک دن چوپاؤں کی طرح بھول جاؤ گے۔ یہ جملہ ہمیں صبر کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخی طور پر، امام علی علیہ السلام کا دور ایک مشکل وقت تھا، جہاں سیاسی اور سماجی حالات نے لوگوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔
اس حکمت میں صبر کا ذکر خاص طور پر اہم ہے۔ صبر کو اسلامی تعلیمات میں ایک اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ یہ صرف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مثبت رویہ ہے جو انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ امام علیہ السلام کا یہ کہنا کہ اگر صبر نہیں کرو گے تو تم بھول جاؤ گے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غم اور مصیبت کے وقت میں صبر نہ کرنے کی صورت میں انسان اپنی شناخت اور اپنی زندگی کی خوشیوں کو کھو دیتا ہے۔
اس حکمت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں مشکلات آتی ہیں، لیکن ان کا سامنا کرنے کا طریقہ ہی ہمیں مضبوط بناتا ہے۔ صبر کرنے سے انسان اپنی مشکلات کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے اور ان کا سامنا کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صبر کا راستہ اختیار کرنے سے انسان اپنی روحانی حالت کو بہتر کر سکتا ہے۔ صبر ایک ایسی خوبی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور اسے اپنی مشکلات میں سکون عطا کرتی ہے۔
