حکمت (420) میں حضرت علی علیہ السلام نے ایک اہم معاشرتی اور اخلاقی مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے تھے اور ایک حسین عورت ان کے سامنے سے گزری۔ صحابہ نے اس عورت کی طرف دیکھا تو حضرت نے فرمایا کہ مردوں کی آنکھیں دیکھنے والی ہوتی ہیں اور یہ نظر بازی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرتی ہے۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ انسانی فطرت میں خوبصورتی کی طرف کشش پائی جاتی ہے۔
حضرت نے اس صورت حال میں ایک عملی نصیحت دی کہ اگر کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے جو اسے پسند آئے تو اسے اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ اس نصیحت میں نہ صرف ایک اخلاقی درس ہے بلکہ یہ بھی ایک روحانی رہنمائی ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا چاہیے اور اپنی ازدواجی زندگی کی قدر کرنی چاہیے۔
اس واقعے میں ایک خارجی نے حضرت کے الفاظ پر تنقید کی اور کہا کہ یہ کافر ہے۔ اس پر لوگوں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی سے ہو سکتا ہے، یا پھر اس کے گناہ سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ اپنے اخلاقی اور روحانی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ ایک جامع نصیحت ہے جو ہمیں اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
