حکمت (423) میں امام علی علیہ السلام نے انسانی زندگی کے تین اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے: باطنی حالت، دین کے لیے عمل، اور اللہ کے ساتھ خوش معاملگی۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی باطنی نیت اور کردار اس کی ظاہری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب دل میں پاکیزگی اور نیکی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کو بھی خوشگوار بنا دیتا ہے۔
دوسرا پہلو دین کے لیے سرگرمی کا ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے دین کے لیے محنت کرتا ہے، اللہ اس کے دنیاوی معاملات کو سنبھال لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کی راہ میں جدوجہد کرنے والے افراد کو دنیاوی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اللہ ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ ایک امید افزا پیغام ہے کہ دین کی خدمت کرنا کبھی بھی بے فائدہ نہیں ہوتا۔
تیسرا پہلو اللہ کے ساتھ خوش معاملگی ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے، اللہ اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات کو درست کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں تو اللہ ہماری زندگی میں دوسروں کے ساتھ بھی معاملات کو بہتر بنا دیتا ہے۔ یہ ایک روحانی اور اخلاقی سبق ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہمیں دنیاوی معاملات میں بھی کامیاب کر سکتا ہے۔
