حکمت (440) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کو دو چیزوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے: صحت اور دولت۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی حقیقتیں عارضی ہیں اور انسان کی حالتیں کبھی بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ یہ بات خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی شخص کی صحت اچھی ہوتی ہے، مگر اچانک بیماری آ جاتی ہے، یا کوئی شخص مالدار ہوتا ہے، مگر پھر وہ محتاج ہو جاتا ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مدد پر بھروسہ رکھنا چاہیے، نہ کہ اپنی صحت یا دولت پر۔ یہ دونوں چیزیں عارضی ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کے فیصلے کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی روحانی حالت اور اللہ کی رضا پر توجہ دینی چاہیے۔
اس حکمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی عارضیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سی چیزیں عارضی ہیں، اور ہمیں ان چیزوں کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔ اگر ہم صحت اور دولت پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہم حقیقت میں اپنی زندگی کی اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں، جو کہ اللہ کی رضا اور آخرت کی تیاری ہے۔
