Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 443

تفصیلی وضاحت — حکمت (443) : جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ فنداس پہاڑ کو کہتے ہیں، جو دوسرے پہاڑوں سے الگ ہو۔ (443- مالک اشتر)

حکمت (۴۴۳) میں امام علی علیہ السلام مالک اشتر کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مالک اشتر کو ایک اہم فوجی کمانڈر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی وفات اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، کیونکہ وہ امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور وفادار تھے۔ یہ حکمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مالک اشتر کی شخصیت کتنی عظیم تھی۔ امام فرماتے ہیں کہ اگر وہ پہاڑ ہوتے تو ان کی بلندیوں تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اور اگر وہ پتھر ہوتے تو ان کی سختی کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔ یہ الفاظ مالک کی عظمت اور ان کی وفاداری کی مثال ہیں۔

اس حکمت میں بنیادی موضوع وفاداری، عظمت اور انسان کی حیثیت کا ہے۔ امام علی علیہ السلام مالک اشتر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی وفاداری اور اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔ مالک اشتر کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک مومن کو ہمیشہ اپنے اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے۔

اخلاقی اور روحانی درس یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں وفاداری کو اپنانا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ وفادار لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور ان کی مثالیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کی عظمت اس کے کردار اور عمل میں ہے، نہ کہ اس کی مادی حیثیت میں۔