Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 464

تفصیلی وضاحت — حکمت (464) : بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ (464- بنی اُمیہ)

حکمت (464) میں امام علی علیہ السلام بنی امیہ کے بارے میں ایک عمیق بصیرت پیش کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بنی امیہ ایک 'مرود' یعنی مہلت کے میدان میں ہیں، جہاں وہ دوڑ لگا رہے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب بنی امیہ کی حکومت اپنے عروج پر تھی، مگر اندرونی اختلافات اور فتنوں کی صورت حال بھی موجود تھی۔ آپ کی یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جیسے دوڑنے والے کسی میدان میں اپنی آخری حد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، ویسے ہی بنی امیہ بھی اپنی طاقت کے عروج پر ہیں، مگر ان کے اندرونی اختلافات انہیں کمزور کر سکتے ہیں۔

اس حکمت میں 'مرود' کا لفظ خاص طور پر اہم ہے، جو مہلت اور فرصت کی علامت ہے۔ امام علی علیہ السلام اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ مہلت ایک عارضی حالت ہے اور جب یہ لوگ اپنی حدوں کو پار کر جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہ ایک واضح نشانی ہے کہ کسی بھی طاقتور نظام کی بنیاد اگر باہمی اختلافات پر ہو تو وہ کبھی بھی مستحکم نہیں رہ سکتا۔

یہ حکمت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت ہر دور میں اہم ہے۔ اگر ہم اپنے اندر اختلافات کو بڑھنے دیں تو ہم اپنی طاقت کو خود ہی کمزور کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر مہلت کا ایک اختتام ہوتا ہے، اور جب وہ اختتام آتا ہے تو اس کے نتیجے میں سخت حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہذا، ہمیں اپنی طاقت کو سنبھالنے اور باہمی اتحاد کی کوشش کرنی چاہئے۔