حکمت (473) میں حضرت علیؑ کا یہ فرمان ایک عمیق اور معنی خیز پیغام پر مشتمل ہے۔ جب حضرتؑ سے کہا گیا کہ اگر آپ اپنے سفید بالوں کو خضاب سے رنگ دیتے تو یہ بہتر ہوتا، تو آپؑ نے فرمایا کہ "خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔" یہ جملہ اس وقت کی حالت کو ظاہر کرتا ہے جب مسلمان رسول اللہؐ کی وفات کے بعد غم و اندوہ میں تھے۔ حضرتؑ نے اس وقت کی سوگوار حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے زینت کی اس علامت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات زینت اور ظاہری خوبصورتی کی بجائے داخلی حالت اور جذبات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ حضرتؑ کا یہ جواب ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب ہمیں اپنے دکھ اور غم کو سامنے رکھنا ہوتا ہے، اور ان لمحات میں ظاہری زینت کو ترک کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حضرتؑ نے اپنی قوم کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذاتی پسند کو ترک کر دیا۔ یہ ایک عظیم رہنما کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنی ذات کے مفاد سے زیادہ اپنے لوگوں کی حالت کا خیال رکھتا ہے۔
اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی کبھی ہمیں اپنی ظاہری حالت کو اپنی داخلی حالت کے مطابق ڈھالنا چاہئے۔ حضرتؑ کی یہ بات ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے جذبات اور حالات کا سامنا کرنا چاہئے، چاہے وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
